ڈوڈہ//ایس ایچ او پولیس تھانہ عسر
فاروق خطیب نے جٹھی(عسر) میں ایک عوامی میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں مقامی
سرپنچوں اور پنچوں کے علاوہ سیاسی و سماجی کارکنان اور دیگر معززینِ علاقہ
نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران شرکاءنے مختلف مسائل کو اُبھارتے ہوئے پولیس
انتظامیہ کی وساطت سے حکومت اور ضلع انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات رکھے
جن میں علاقہ میں بلا تعطل بجلی اور پانی کی سپلائی کو یقینی بنانا،سی ایچ
سی جٹھی میں بہترین تربیت یافتہ عملہ کی تعیناتی،کنڈیری نالہ سے جٹھی
آبپاشی نہرک کی تجدیدک و مرمت،علاقہ میں بجلی کی ترسیل کے لئے لگائی گئی
کانٹے دار تاروں کی جگہ المونیم تار لگانا وغیرہ شامل ہیں۔ایس ایچ او نے
شرکائے میٹنگ کو یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات کو متعلقہ حکام کے سامنے رکھ
کر اُنہیں پورا کروانے کی کوشش کی جائے گی۔شرکائے میٹنگ نے بڑھتے ہوئے سڑک
حادثات ،منشیات وغیرہ کے پھیلاﺅ اور اسی قسم کے دیگر جرائم سے متعلق اپنی
تشویش سے بھی ایس ایچ او کو آگاہ کیا اور متعدد دیگرمسائل کو اُبھارکر اُن
کے حل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ایس ایچ او نے
سماج میں جرائم کی روک تھام میں سوسائٹی کے رول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ
معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اور عوام میں قریبی
رابطہ ہو اور لوگ پولیس کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کریں۔ جب تک شہری سماج
دشمن عناصر کی نشاندہی میں پولیس کے ساتھ تعاون نہ کریں تب تک پولیس کچھ
بھی نہیں کر سکتی۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے ہی معاشرہ میں امن
قائم ہو سکتا ہے اورشہریوں کو چاہیے کہ وہ امن و امان کی بحالی کے سلسلہ
میںپولیس سے تعاون کریں تاکہ سماج میں پھیل رہی برائیوں پر روک لگائی جا
سکے اور معاشرے کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو
انصاف فراہم کرنا پولیس کا فرضِ اولین ہے،مگر یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب
اُسے عوام کو بھر پورتعاون حاصل ہو۔
عسر میں پولیس کا عوامی دربار عسر میں پولیس کا عوامی دربار
Learning WEBSITE
Monday, 28 March 2016
پالی تھین پر پابندی کا قانون راجوری پونچھ میںندارد
راجوری //سائنسدانوں کی طرف سے
پولی تھین کے استعمال کے خطرات سے بارہا انتباہ کئے جانے کے باوجود حکام
خاموش سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور لوگ کھلے عام ان لفافوں کا
استعمال کررہے ہیں ۔حالانکہ اس سلسلے میں ایس آر او 243بتاریخ 2011جاری
کرکے اس پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن راجوری اور پونچھ اضلاع میں کہیں
پر بھی اس پر عمل ہوتادکھائی نہیں دے رہا اور ایسا لگتاہے جیسے ان اضلاع
میں یہ قانون نافذ ہی نہیں ۔راجوری اور پونچھ کے تمام قصبوں راجوری ،
منجاکوٹ ، تھنہ منڈی ، درہال ، کنڈی ، بدھل ، کالاکوٹ ، نوشہرہ ، تریاٹھ ،
سندر بنی ، مینڈھر ، سرنکوٹ ، پونچھ اور منڈی کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی
پولی تھین کا استعمال کھلے عام جاری ہے اور پھر انہی لفافوں کو بعد میں
پانی کے نالوں میں پھینک دیاجاتاہے۔وہیں دکاندار بھی بغیر کسی خوف و ڈر کے
لفافوں کوفروخت کررہے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ راجوری پونچھ میں پولی تھین
لفافوں کے استعمال کا کوئی معائنہ ہی نہیں کیاجارہااور تمام سرکاری
ایجنسیاں خاموش بیٹھی ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 2011میں ایس آر او
243جموں و کشمیر نان بائیوڈی گریڈ میٹریل ایکٹ 2007کے تحت آٹھ سرکاری محکمہ
جات کے افسران کو ہدایت دی تھی کہ وہ پولی تھین کے استعمال کی سختی سے
چیکنگ کریں ۔ان میں پولوشن کنٹرول بورڈ ، سب ڈیویژنل مجسٹریٹ /تحصیلدار اور
ایگزیکٹو مجسٹریٹ ، چیف ایگزیکٹو افسر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز،سیکریٹری
اور انفورسمنٹ افسر لاڈا ، ہیلتھ افسر ان ، خلاف ورزی افسران ،جے ایم سی
اور ایس ایم سی کے چیف انفورسمنٹ افسران ،میونسپل باڈیز کے افسران ، وائلڈ
لائف وارڈن /رینج افسران اور محکمہ جنگلات کے رینج افسران یا اس سے بڑے
عہدے کے افسران شامل ہیں ۔پولوشن کنٹرول بورڈ کا سب سے اہم کام یہ بھی ہے
کہ ضبط کئے گئے لفافے اسے ٹھکانے لگانے ہیں ۔تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ
ایس آراو کی کے تحت جاری ہوئی ہدایات پر ابھی بھی عمل درآمد نہیںہوناباقی
ہے ۔اگرذرائع پر یقین کرلیاجائے تو پتہ چلتاہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر
ان ہدایات کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئیں اورتمام محکمہ جات نے مل کر
مشکل سے ایک کوئنٹل پولی تھین ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ پولوشن کنٹرول بورڈ
کو دیئے ہوںگے۔رابطہ کرنے پر راجوری پونچھ ڈیویژنل افسر پولوشن کنٹرول
بورڈ ارشد مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں میونسپل کمیٹی
راجوری نے پولوشن کنٹرول بورڈ کو ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے ہیں جو محکمہ
اور میونسپلٹی کی مشترکہ کارروائی کے دوران ضبط کئے گئے ۔انہوںنے مزید
بتایاکہ اس کے علاوہ راجوری پونچھ کی کسی بھی دوسری میونسپل کمیٹی نے پولی
تھین ان کو نہیں دیئے ۔مرزا کاکہناتھا”پچھلے ڈیڑھ سال میں راجوری اور پونچھ
سے صرف ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے گئے ہیں “۔ڈپٹی کمشنر راجوری شبیر احمد
بٹ نے کہاکہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے کہ ایس آراو کی ہدایات پر کیوں
عمل نہیںہورہا۔وہیں ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک کاکہناہے کہ وہ ایس
آراو کی ہدایات پر عمل آوری کا جائزہ لیںگے۔
۔32سالہ شخص کی پراسرار حالت میں نعش بر آمد
جموں// ایک شخص کو پراسرارطورپراس
کی رہائش گاہ پر لٹکاہواپایاگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق 32 برس کے ہیرالال
ولد بانٹاساکن بڑی براہمناں کواس کی رہائش گاہ پر دن کے ڈیڑھ بجے
پراسرارطورپرلٹکاہواپایاگیاجس کے بعد اسے جموں میڈیکل کالج منتقل کیاگیا
جہاں پرڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کرکے
دفعہ 174 کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔
web news
مینڈھر// جموں و کشمیر پیر پنجال
عوامی پارٹی کی ایک میٹنگ ڈاک بنگلہ مینڈھرمیں منعقد ہوئی جسکی صدارت پارٹی
صدرایڈووکیٹ چوہدری محمد یونس چوہان نے کی۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین
نے کہاکہ سابق حکومتوں نے خطہ پیر پنجال کو مکمل طور پر نظرانداز رکھا اور
اسے ترقی کے ہر شعبے میں محروم رکھاگیا۔ان کاکہناتھاکہ باغبانی ،زراعت،
سیروسیاحت کے علاوہ تعلیم سے بھی محروم رکھاگیااورعوامی خیر خوا ہی کے
بجائے قائدین کی خیر خوا ہی سے کام لیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ چنڈک میں
یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر نہایت ہی سست رفتاری سے چل رہی ہے جبکہ پرنائی پن
بجلی پروجیکٹ جسے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے دور اقتدار میں شروع کیا
گیاتھا،کا کام دو نسلیں گذرنے کے بعد بھی مکمل نہیں ہوسکاہے ۔انہوںنے کہاکہ
گگر کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے چند مشینیںضرور کھڑی ہیں لیکن
تعمیر برائے نام ہے۔ان کاکہناتھاکہ خطہ پیر پنجال کی عوام کو صرف ووٹ بنک
کے طور استعمال کیا جارہاہے اور اس پر تشویش کی بات یہ ہے کہ انہیں تقسیم
کردیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اب ریاست کی تقسیم کیلئے باتیں ہونے لگی ہیں ،
اگر ایسا ہوتاہے توپونچھ جو ریاست کی حیثیت رکھتی تھی،کو پیر پنجال نام سے
ایک الگ ریاست بنایا جائے۔ پارٹی کارکنان نے نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو
کالعدم قرار دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایکٹ دفعہ 370کو کمزور بنانے
کیلئے نافذ کیاگیاہے ۔میٹنگ میں سرپرست اعلیٰ ایڈووکیٹ راجہ محمد عباس
خان،ریاستی سیکریٹری مشتاق احمد فانی، ریاستی سیکریٹری ایڈووکیٹ نصیر احمد
،جعفرید کھاری خزانچی، ضلع صدر پونچھ چوہدری محمد شفیع کھٹانہ،ضلع جنر ل
سیکریٹری عبد الرحمن،ضلع نائب صدر پونچھ محمد شریف خان، نیاز احمد بلاک صدر
پونچھ،بلاک صدر مینڈھر فیض محمد خان، نائب صدر مینڈھر محمد اسلم خان، بلاک
صدر بالاکوٹ مشتاق خان، محمد شریف، ممتاز احمد،چوہدری مکھن دین ،محمد ایوب
،محمد اسلم چوہدری مکھنا اور سرفراز احمدبھی موجو دتھے۔
web
مینڈھر//مینڈھر تحصیل میں اﺅر
لوڈنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور لوگوں نے سومو کی چھت کے
بجائے پیچھے والی کھڑکی کھول کر کھڑا ہونا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتی
جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔مینڈھر تحصیل میںہمیشہ اﺅر لوڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا
ہے کیونکہ گاڑیوں کو چیک کرنے والی ٹریفک پولیس ہمیشہ سے ہفتہ لینے پر
بدنام رہی ہے۔ کئی لوگوں کو کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس ہفتہ لے کر ڈرائیوروں
کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے اور جب بڑا حادثہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگوں کی
قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ ا ن کاکہناہے کہ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے
حادثات رونما ہوچکے ہیں ۔ مشتاق فانی کا کہنا ہے کہ میندھر میں زیادہ
گاڑیاں بغیر کاغذا ت کے چلتی ہیں اور کئی گاڑیاں ایسی بھی ہیں جن کے پرمٹ
بھی نہیں۔انہوںنے کہاکہ کئی گاڑیوں کے مالک چالیس پچاس ہزار روپے کی چھوٹی
گاڑی لا کر یہاں سڑکوں پر چلانا شروع کر دیتے ہیں لیکن ان کو پوچھنے والا
کوئی بھی نہیں کیونکہ جب ٹریفک پولیس ہفتہ لیتی ہے تو ان کو کیا ضرورت ہے
کہ گاڑیوں کے کاغذات چیک کئے جائیں اسلئے ڈرائیور طبقہ کو کھلی چھوٹ دی
ہوئی ہے کہ وہ جتنی سواریاں لادناچاہیں لاد سکتے ہیں لیکن اگر کوئی حادثہ
رونما ہوگیا تواس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ۔عام لوگوں نے انتظامیہ سے
اپیل کی ہے کہ اﺅر لوڈنگ کرنے والوں کیخلاف کڑی کارروائی کی جائے تاکہ
لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔
web
کوٹرنکہ //نیشنل کانفرنس نے گورنر
انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ کوٹرنکہ میں راشن کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے
۔یہاں جاری ایک بیان میں پارٹی لیڈر محمد شریف نے کہاکہ پچھلے دو ماہ سے
کوٹرنکہ میں راشن فراہم نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں غریب کنبے بھکمری
کاشکار ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ سابق وزیر
برائے امورصارفین وعوامی تقسیم کاری کے حلقہ میں راشن کی شدید قلت ہے ۔
انہوںنے کہاکہ لوگوں کو فوری طور پر راشن فراہم کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ
علاقے میں لوگوں کے پاس اتنی فصل نہیںہوتی کہ وہ راشن کی سپلائی کے بغیر
گزارا کرسکیں۔
Labels:
DESIGN,
design news,
flower,
news,
news oa,
news ter news,
WEB
web,web
گندو//ڈوڈہ پولیس نے پندرہ سال سے
لا پتہ ایک خاتون کو بر آمد کر کے اُسے وارثین کے حوالہ کر دیا ہے۔پولیس کی
طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 36سالہ سکینہ بیگم زوجہ
بشیر احمد ساکنہ ملتھ تحصیل چلی پنگل جو11.09.2000 سے اپنے گھر سے لا پتہ
تھی اور اس سلسلہ میں پولیس اسٹیشن گندو میںDDR No.03بتاریخ11.09.2000
معاملہ درج کیا گیا تھا۔پولیس کو با وثوق ذرائع سے لا پتہ خاتون کی تحصیل
کاہراہ کے ہونڈا گاﺅں میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر مذکورہ مقام پر چھاپہ
مار کر خاتون کو برآمد کر لیااور اور اُسے اُس کے شوہر کے حوالہ کیا گیا۔یہ
پوری کاروائی ایس ایس پی ڈوڈہ زاہد نسیم منہاس کی سرپرستی، ایس ڈی پی او
گندو بھوشن کمار گنجو کی رہنمائی اور ایس ایچ او گندو طارق حسین کی قیادت
میں انجام دی گئی۔
Subscribe to:
Comments (Atom)