Monday, 28 March 2016
web,
لاہور//پاکستانی صوبہ پنجاب کے
دارالحکومت لاہور میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 53 افراد ہلاک
اور 100 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا
ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاو ¿ن کے گلشن اقبال پارک میں دھماکا
ہو اجس کے فوری بعد پولیس اور ریسکیو ادارے متاثرہ مقام پر پہنچے۔ریسکیو
ذرائع کے مطابق دھماکے کے فوری بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی
کاموں کا آغاز کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔پولیس نے
لاہور کے اقبال ٹاو ¿ن کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والے دھماکے کو خود کش
قرار دیا ہے۔اقبال ٹاو ¿ن کے سپرٹینڈنٹ پولیس (ایس پی) محمد اقبال نے دعویٰ
کیا ہے کہ خود کش دھماکے میں 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد
خواتین اور بچوں کی ہے۔انھوں نے واقعے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کرتے
ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیس کے
مطابق دھماکا گلشن اقبال پارک کے اس حصے میں ہوا جہاں بچوں کے جھولے نصب
تھے اور مذکورہ مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔پولیس نے جائے وقوعہ
کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ہسپتال ذرائع نے دھماکے میں
کم سے کم 40 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب ایدھی ذرائع نے
بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 203 تک جا پہنچی ہے۔ریسکیو
ذرائع کے مطابق دھماکا گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر ایک کے قریب موٹر
سائیکل اسٹینڈ میں ہوا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے
والے بیشتر افراد کو شیخ زائد ہسپتال اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ
دیگر زخمیوں کو لاہور کے متعدد ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔دھماکے کے فوری
بعد حکومت نے لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور پرائیویٹ
ہسپتالوں کو بھی زخمیوں کے علاج معالجے کی ہدایت کردی ہے۔دھماکے کے بعد
لاہور اور اس اطراف کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔دھماکے کے بعد ہر
جانب لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پارک
میں ہر جانب لاشیں اور خون بھکرا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد
پارک میں افراتفری پھیل گئی اور ہر جانب زخمیوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی
تھی۔لاشوں اور زخمیوں کو ٹیکسی، رکشہ اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے ہسپتال
منتقل کیا گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق ایسٹر کی وجہ سے شہریوں کی غیر معمولی
تعداد اقبال پارک آئی تھی اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود
تھیں۔عینی شاہدین کا دعویٰ تھا کہ پارک کی سیکیورٹی کیلئے کوئی بھی موجود
نہیں تھا۔لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن حیدر اشرف کے مطابق دھماکا خود
کش تھا،خود کش حملہ آور نوجوان تھا جس نے خود کش بیلٹ باندھ رکھی تھی۔ذرائع
کے مطابق صرف جناح اسپتال میں34لاشیں لائی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق خود
کش حملہ ا?وور نے گلشن اقبال پارک کے مرکزی دروازے کے قریب جہاں لوگوں کی
بڑی تعداد باہر نکل رہی تھی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑالیا ،جاںبحق افراد میں
بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment