Monday, 28 March 2016

پالی تھین پر پابندی کا قانون راجوری پونچھ میںندارد

راجوری //سائنسدانوں کی طرف سے پولی تھین کے استعمال کے خطرات سے بارہا انتباہ کئے جانے کے باوجود حکام خاموش سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور لوگ کھلے عام ان لفافوں کا استعمال کررہے ہیں ۔حالانکہ اس سلسلے میں ایس آر او 243بتاریخ 2011جاری کرکے اس پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن راجوری اور پونچھ اضلاع میں کہیں پر بھی اس پر عمل ہوتادکھائی نہیں دے رہا اور ایسا لگتاہے جیسے ان اضلاع میں یہ قانون نافذ ہی نہیں ۔راجوری اور پونچھ کے تمام قصبوں راجوری ، منجاکوٹ ، تھنہ منڈی ، درہال ، کنڈی ، بدھل ، کالاکوٹ ، نوشہرہ ، تریاٹھ ، سندر بنی ، مینڈھر ، سرنکوٹ ، پونچھ اور منڈی کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی پولی تھین کا استعمال کھلے عام جاری ہے اور پھر انہی لفافوں کو بعد میں پانی کے نالوں میں پھینک دیاجاتاہے۔وہیں دکاندار بھی بغیر کسی خوف و ڈر کے لفافوں کوفروخت کررہے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ راجوری پونچھ میں پولی تھین لفافوں کے استعمال کا کوئی معائنہ ہی نہیں کیاجارہااور تمام سرکاری ایجنسیاں خاموش بیٹھی ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 2011میں ایس آر او 243جموں و کشمیر نان بائیوڈی گریڈ میٹریل ایکٹ 2007کے تحت آٹھ سرکاری محکمہ جات کے افسران کو ہدایت دی تھی کہ وہ پولی تھین کے استعمال کی سختی سے چیکنگ کریں ۔ان میں پولوشن کنٹرول بورڈ ، سب ڈیویژنل مجسٹریٹ /تحصیلدار اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ ، چیف ایگزیکٹو افسر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز،سیکریٹری اور انفورسمنٹ افسر لاڈا ، ہیلتھ افسر ان ، خلاف ورزی افسران ،جے ایم سی اور ایس ایم سی کے چیف انفورسمنٹ افسران ،میونسپل باڈیز کے افسران ، وائلڈ لائف وارڈن /رینج افسران اور محکمہ جنگلات کے رینج افسران یا اس سے بڑے عہدے کے افسران شامل ہیں ۔پولوشن کنٹرول بورڈ کا سب سے اہم کام یہ بھی ہے کہ ضبط کئے گئے لفافے اسے ٹھکانے لگانے ہیں ۔تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ ایس آراو کی کے تحت جاری ہوئی ہدایات پر ابھی بھی عمل درآمد نہیںہوناباقی ہے ۔اگرذرائع پر یقین کرلیاجائے تو پتہ چلتاہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر ان ہدایات کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئیں اورتمام محکمہ جات نے مل کر مشکل سے ایک کوئنٹل پولی تھین ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ پولوشن کنٹرول بورڈ کو دیئے ہوںگے۔رابطہ کرنے پر راجوری پونچھ ڈیویژنل افسر پولوشن کنٹرول بورڈ ارشد مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں میونسپل کمیٹی راجوری نے پولوشن کنٹرول بورڈ کو ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے ہیں جو محکمہ اور میونسپلٹی کی مشترکہ کارروائی کے دوران ضبط کئے گئے ۔انہوںنے مزید بتایاکہ اس کے علاوہ راجوری پونچھ کی کسی بھی دوسری میونسپل کمیٹی نے پولی تھین ان کو نہیں دیئے ۔مرزا کاکہناتھا”پچھلے ڈیڑھ سال میں راجوری اور پونچھ سے صرف ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے گئے ہیں “۔ڈپٹی کمشنر راجوری شبیر احمد بٹ نے کہاکہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے کہ ایس آراو کی ہدایات پر کیوں عمل نہیںہورہا۔وہیں ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک کاکہناہے کہ وہ ایس آراو کی ہدایات پر عمل آوری کا جائزہ لیںگے۔

No comments:

Post a Comment