آج سے تحقیقاتی عمل شروع ہو گا،NIAہیڈکوارٹر ،پٹھانکوٹ اور سرحد کا دورہ طے
نیوز ڈیسک
نئی
دہلی//پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش کےلئے پاکستانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نئی
دہلی پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی ٹیم اتوار کی صبح لاہور ہوائی اڈے سے ایک خصوصی
پرواز میں نئی دہلی کیلئے روانہ ہوئی اور کچھ وقت تک ٹیم دہلی کے ہوائی
اڈے پر پہنچی۔دہلی ہوائی اڈ ے پر قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی کے
عہدیداروں اور پاکستانی سفارتخانہ کے حکام نے اس کا استقبال کیا ۔ یہ
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم آج یعنی پیر نئی دہلی میں واقع این آئی اے ہیڈکوارٹر
جائے گی جہاں انہیں این آئی اے ٹیم کی جانب سے پٹھانکوٹ حملہ کی اب تک کی
تحقیقات کے بارے میں 90منٹ پر مشتمل پریزنٹیشن دی جائے گی اور اس میں اس
حملہ کے سرحد پار تار جڑنے کے حوالے سے شواہد بھی پیش کئے جائیں گے۔ظہرانے
کے بعد پاکستانی ٹیم اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کیلئے این آئی اے ٹیم سے
سوالات کرے گی اور اس کے بعد منگل کی صبح وہ ایک خصوصی پرواز کے ذریعے
پٹھانکوٹ روانہ ہوگی۔جہاں منگل سے بھارتی فضائیہ کے اس ہوائی اڈے پر ہونے
والے حملے کی تحقیقات شروع کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی اے کی جانب
سے ائر بیس کو کچھ اس طرح تار بند کیاجائے گا کہ پاکستانی ٹیم کی حساس
علاقوں تک رسائی ممکن نہ ہو او ر وہ ان علاقوں کو دیکھ بھی نہ پائیں جبکہ
انہیں صرف وہ مقامات دکھائے جائیں گے جہاں مسلح افراد اور فورسز کے درمیان
جھڑپ ہوئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اس دہشت گردانہ حملوں
کے عینی گواہوں تک رسائی دینے کا منصوبہ ہے تاہم این ایس جی یا بی ایس ایف
اہلکاروں تک رسائی نہیں ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو تعاون
جوابی تعاون کے اصول پر دیاجائے گا اور عین ممکن ہے کہ اس کے بعد بھارتی
ٹیم کو بھی پاکستان جانے کی اجازت دی جائے گی۔معلوم ہوا ہے کہ تمام گواہوں
کو حاضر کیاجائے گا جن میں ایس پی پنجاب پولیس سالوندر سنگھ ،اس کا صراف
دوست راجیش ورما اور خان ساماں مدن گوپال اور17زخمی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ
چاروں دہشت گردوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی جن میں ان کے
آبائی گاﺅں کا ذکر اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے انہیں بھارت میں
بھامیال گاﺅں کے راستے داخل ہونے میں مدد فراہم کی۔ پاکستانی ٹیم کو سرحد
پر اُس مقام پر بھی لیاجائے گا جہاں سے وہ بھارتی حدود میں داخل ہوگئے
تھے۔یاد رہے کہ انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس پانچ رکنی ٹیم کی قیادت کر
رہے ہیں۔اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے متعلق مشیر سرتاج
عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان نیپال کے شہر پوکھرا میں
ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس ٹیم کی روانگی کے بارے میں
بتایا گیا تھا۔سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان کی جے آئی ٹیم 27 مارچ کی
رات بھارت پہنچے گی اور 28 مارچ سے پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے کام شروع
کرے گی۔اس سے پہلے فروری کے مہینے میں پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے
جاری کےءگئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے
ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ
پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے
اس ٹیم کے کنوینر ہوں گے۔پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی فورس کے ایڈیشنل
انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس ٹیم کے سربراہ ہیں، جب کہ ان سول انٹیلی
جنس ایجنسی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم ارشد، انٹرسروسز انٹیلی جنس
ایجنسی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل
عرفان مرزا اور محکمہ انسداد دہشت گردی گجرانوالہ کے انسپکٹر شاہد تنویر
بھی ٹیم میں شامل ہیں۔پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں پاکستان میں فروری کے
مہینے میں پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے الزام عائد
کیا تھا کہ عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد اس حملے میں ملوث ہے۔ تاہم یہ
واضح نہیں ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کس گروہ یا تنظیم سے ہے۔یاد رہے
کہ اس سال دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع
پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہو گئے
تھے جبکہ کہ چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی
مارے گئے تھے۔
No comments:
Post a Comment