Monday, 28 March 2016

عسر میں پولیس کا عوامی دربار

ڈوڈہ//ایس ایچ او پولیس تھانہ عسر فاروق خطیب نے جٹھی(عسر) میں ایک عوامی میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں مقامی سرپنچوں اور پنچوں کے علاوہ سیاسی و سماجی کارکنان اور دیگر معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران شرکاءنے مختلف مسائل کو اُبھارتے ہوئے پولیس انتظامیہ کی وساطت سے حکومت اور ضلع انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات رکھے جن میں علاقہ میں بلا تعطل بجلی اور پانی کی سپلائی کو یقینی بنانا،سی ایچ سی جٹھی میں بہترین تربیت یافتہ عملہ کی تعیناتی،کنڈیری نالہ سے جٹھی آبپاشی نہرک کی تجدیدک و مرمت،علاقہ میں بجلی کی ترسیل کے لئے لگائی گئی کانٹے دار تاروں کی جگہ المونیم تار لگانا وغیرہ شامل ہیں۔ایس ایچ او نے شرکائے میٹنگ کو یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات کو متعلقہ حکام کے سامنے رکھ کر اُنہیں پورا کروانے کی کوشش کی جائے گی۔شرکائے میٹنگ نے بڑھتے ہوئے سڑک حادثات ،منشیات وغیرہ کے پھیلاﺅ اور اسی قسم کے دیگر جرائم سے متعلق اپنی تشویش سے بھی ایس ایچ او کو آگاہ کیا اور متعدد دیگرمسائل کو اُبھارکر اُن کے حل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ایس ایچ او نے سماج میں جرائم کی روک تھام میں سوسائٹی کے رول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اور عوام میں قریبی رابطہ ہو اور لوگ پولیس کو اپنا بھر پور تعاون فراہم کریں۔ جب تک شہری سماج دشمن عناصر کی نشاندہی میں پولیس کے ساتھ تعاون نہ کریں تب تک پولیس کچھ بھی نہیں کر سکتی۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون سے ہی معاشرہ میں امن قائم ہو سکتا ہے اورشہریوں کو چاہیے کہ وہ امن و امان کی بحالی کے سلسلہ میںپولیس سے تعاون کریں تاکہ سماج میں پھیل رہی برائیوں پر روک لگائی جا سکے اور معاشرے کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو انصاف فراہم کرنا پولیس کا فرضِ اولین ہے،مگر یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب اُسے عوام کو بھر پورتعاون حاصل ہو۔ عسر میں پولیس کا عوامی دربار عسر میں پولیس کا عوامی دربار

پالی تھین پر پابندی کا قانون راجوری پونچھ میںندارد

راجوری //سائنسدانوں کی طرف سے پولی تھین کے استعمال کے خطرات سے بارہا انتباہ کئے جانے کے باوجود حکام خاموش سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور لوگ کھلے عام ان لفافوں کا استعمال کررہے ہیں ۔حالانکہ اس سلسلے میں ایس آر او 243بتاریخ 2011جاری کرکے اس پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن راجوری اور پونچھ اضلاع میں کہیں پر بھی اس پر عمل ہوتادکھائی نہیں دے رہا اور ایسا لگتاہے جیسے ان اضلاع میں یہ قانون نافذ ہی نہیں ۔راجوری اور پونچھ کے تمام قصبوں راجوری ، منجاکوٹ ، تھنہ منڈی ، درہال ، کنڈی ، بدھل ، کالاکوٹ ، نوشہرہ ، تریاٹھ ، سندر بنی ، مینڈھر ، سرنکوٹ ، پونچھ اور منڈی کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی پولی تھین کا استعمال کھلے عام جاری ہے اور پھر انہی لفافوں کو بعد میں پانی کے نالوں میں پھینک دیاجاتاہے۔وہیں دکاندار بھی بغیر کسی خوف و ڈر کے لفافوں کوفروخت کررہے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ راجوری پونچھ میں پولی تھین لفافوں کے استعمال کا کوئی معائنہ ہی نہیں کیاجارہااور تمام سرکاری ایجنسیاں خاموش بیٹھی ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 2011میں ایس آر او 243جموں و کشمیر نان بائیوڈی گریڈ میٹریل ایکٹ 2007کے تحت آٹھ سرکاری محکمہ جات کے افسران کو ہدایت دی تھی کہ وہ پولی تھین کے استعمال کی سختی سے چیکنگ کریں ۔ان میں پولوشن کنٹرول بورڈ ، سب ڈیویژنل مجسٹریٹ /تحصیلدار اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ ، چیف ایگزیکٹو افسر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز،سیکریٹری اور انفورسمنٹ افسر لاڈا ، ہیلتھ افسر ان ، خلاف ورزی افسران ،جے ایم سی اور ایس ایم سی کے چیف انفورسمنٹ افسران ،میونسپل باڈیز کے افسران ، وائلڈ لائف وارڈن /رینج افسران اور محکمہ جنگلات کے رینج افسران یا اس سے بڑے عہدے کے افسران شامل ہیں ۔پولوشن کنٹرول بورڈ کا سب سے اہم کام یہ بھی ہے کہ ضبط کئے گئے لفافے اسے ٹھکانے لگانے ہیں ۔تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ ایس آراو کی کے تحت جاری ہوئی ہدایات پر ابھی بھی عمل درآمد نہیںہوناباقی ہے ۔اگرذرائع پر یقین کرلیاجائے تو پتہ چلتاہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر ان ہدایات کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئیں اورتمام محکمہ جات نے مل کر مشکل سے ایک کوئنٹل پولی تھین ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ پولوشن کنٹرول بورڈ کو دیئے ہوںگے۔رابطہ کرنے پر راجوری پونچھ ڈیویژنل افسر پولوشن کنٹرول بورڈ ارشد مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں میونسپل کمیٹی راجوری نے پولوشن کنٹرول بورڈ کو ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے ہیں جو محکمہ اور میونسپلٹی کی مشترکہ کارروائی کے دوران ضبط کئے گئے ۔انہوںنے مزید بتایاکہ اس کے علاوہ راجوری پونچھ کی کسی بھی دوسری میونسپل کمیٹی نے پولی تھین ان کو نہیں دیئے ۔مرزا کاکہناتھا”پچھلے ڈیڑھ سال میں راجوری اور پونچھ سے صرف ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے گئے ہیں “۔ڈپٹی کمشنر راجوری شبیر احمد بٹ نے کہاکہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے کہ ایس آراو کی ہدایات پر کیوں عمل نہیںہورہا۔وہیں ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک کاکہناہے کہ وہ ایس آراو کی ہدایات پر عمل آوری کا جائزہ لیںگے۔

۔32سالہ شخص کی پراسرار حالت میں نعش بر آمد

جموں// ایک شخص کو پراسرارطورپراس کی رہائش گاہ پر لٹکاہواپایاگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق 32 برس کے ہیرالال ولد بانٹاساکن بڑی براہمناں کواس کی رہائش گاہ پر دن کے ڈیڑھ بجے پراسرارطورپرلٹکاہواپایاگیاجس کے بعد اسے جموں میڈیکل کالج منتقل کیاگیا جہاں پرڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کرکے دفعہ 174 کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔

web news

مینڈھر// جموں و کشمیر پیر پنجال عوامی پارٹی کی ایک میٹنگ ڈاک بنگلہ مینڈھرمیں منعقد ہوئی جسکی صدارت پارٹی صدرایڈووکیٹ چوہدری محمد یونس چوہان نے کی۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ سابق حکومتوں نے خطہ پیر پنجال کو مکمل طور پر نظرانداز رکھا اور اسے ترقی کے ہر شعبے میں محروم رکھاگیا۔ان کاکہناتھاکہ باغبانی ،زراعت، سیروسیاحت کے علاوہ تعلیم سے بھی محروم رکھاگیااورعوامی خیر خوا ہی کے بجائے قائدین کی خیر خوا ہی سے کام لیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ چنڈک میں یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر نہایت ہی سست رفتاری سے چل رہی ہے جبکہ پرنائی پن بجلی پروجیکٹ جسے مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے دور اقتدار میں شروع کیا گیاتھا،کا کام دو نسلیں گذرنے کے بعد بھی مکمل نہیں ہوسکاہے ۔انہوںنے کہاکہ گگر کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے چند مشینیںضرور کھڑی ہیں لیکن تعمیر برائے نام ہے۔ان کاکہناتھاکہ خطہ پیر پنجال کی عوام کو صرف ووٹ بنک کے طور استعمال کیا جارہاہے اور اس پر تشویش کی بات یہ ہے کہ انہیں تقسیم کردیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اب ریاست کی تقسیم کیلئے باتیں ہونے لگی ہیں ، اگر ایسا ہوتاہے توپونچھ جو ریاست کی حیثیت رکھتی تھی،کو پیر پنجال نام سے ایک الگ ریاست بنایا جائے۔ پارٹی کارکنان نے نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایکٹ دفعہ 370کو کمزور بنانے کیلئے نافذ کیاگیاہے ۔میٹنگ میں سرپرست اعلیٰ ایڈووکیٹ راجہ محمد عباس خان،ریاستی سیکریٹری مشتاق احمد فانی، ریاستی سیکریٹری ایڈووکیٹ نصیر احمد ،جعفرید کھاری خزانچی، ضلع صدر پونچھ چوہدری محمد شفیع کھٹانہ،ضلع جنر ل سیکریٹری عبد الرحمن،ضلع نائب صدر پونچھ محمد شریف خان، نیاز احمد بلاک صدر پونچھ،بلاک صدر مینڈھر فیض محمد خان، نائب صدر مینڈھر محمد اسلم خان، بلاک صدر بالاکوٹ مشتاق خان، محمد شریف، ممتاز احمد،چوہدری مکھن دین ،محمد ایوب ،محمد اسلم چوہدری مکھنا اور سرفراز احمدبھی موجو دتھے۔

web

مینڈھر//مینڈھر تحصیل میں اﺅر لوڈنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور لوگوں نے سومو کی چھت کے بجائے پیچھے والی کھڑکی کھول کر کھڑا ہونا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔مینڈھر تحصیل میںہمیشہ اﺅر لوڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیونکہ گاڑیوں کو چیک کرنے والی ٹریفک پولیس ہمیشہ سے ہفتہ لینے پر بدنام رہی ہے۔ کئی لوگوں کو کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس ہفتہ لے کر ڈرائیوروں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے اور جب بڑا حادثہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگوں کی قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ ا ن کاکہناہے کہ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے حادثات رونما ہوچکے ہیں ۔ مشتاق فانی کا کہنا ہے کہ میندھر میں زیادہ گاڑیاں بغیر کاغذا ت کے چلتی ہیں اور کئی گاڑیاں ایسی بھی ہیں جن کے پرمٹ بھی نہیں۔انہوںنے کہاکہ کئی گاڑیوں کے مالک چالیس پچاس ہزار روپے کی چھوٹی گاڑی لا کر یہاں سڑکوں پر چلانا شروع کر دیتے ہیں لیکن ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں کیونکہ جب ٹریفک پولیس ہفتہ لیتی ہے تو ان کو کیا ضرورت ہے کہ گاڑیوں کے کاغذات چیک کئے جائیں اسلئے ڈرائیور طبقہ کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ جتنی سواریاں لادناچاہیں لاد سکتے ہیں لیکن اگر کوئی حادثہ رونما ہوگیا تواس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ۔عام لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اﺅر لوڈنگ کرنے والوں کیخلاف کڑی کارروائی کی جائے تاکہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔

web

کوٹرنکہ //نیشنل کانفرنس نے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ کوٹرنکہ میں راشن کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔یہاں جاری ایک بیان میں پارٹی لیڈر محمد شریف نے کہاکہ پچھلے دو ماہ سے کوٹرنکہ میں راشن فراہم نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں غریب کنبے بھکمری کاشکار ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ سابق وزیر برائے امورصارفین وعوامی تقسیم کاری کے حلقہ میں راشن کی شدید قلت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کو فوری طور پر راشن فراہم کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ علاقے میں لوگوں کے پاس اتنی فصل نہیںہوتی کہ وہ راشن کی سپلائی کے بغیر گزارا کرسکیں۔

web,web

گندو//ڈوڈہ پولیس نے پندرہ سال سے لا پتہ ایک خاتون کو بر آمد کر کے اُسے وارثین کے حوالہ کر دیا ہے۔پولیس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 36سالہ سکینہ بیگم زوجہ بشیر احمد ساکنہ ملتھ تحصیل چلی پنگل جو11.09.2000 سے اپنے گھر سے لا پتہ تھی اور اس سلسلہ میں پولیس اسٹیشن گندو میںDDR No.03بتاریخ11.09.2000 معاملہ درج کیا گیا تھا۔پولیس کو با وثوق ذرائع سے لا پتہ خاتون کی تحصیل کاہراہ کے ہونڈا گاﺅں میں موجودگی کی اطلاع ملنے پر مذکورہ مقام پر چھاپہ مار کر خاتون کو برآمد کر لیااور اور اُسے اُس کے شوہر کے حوالہ کیا گیا۔یہ پوری کاروائی ایس ایس پی ڈوڈہ زاہد نسیم منہاس کی سرپرستی، ایس ڈی پی او گندو بھوشن کمار گنجو کی رہنمائی اور ایس ایچ او گندو طارق حسین کی قیادت میں انجام دی گئی۔

bunyadain

بھدرواہ// ہالیہ وارڈ نمبر 13 کے لوگوں نے انتظامیہ پر علاقہ کونظراندازکرنے کاالزام لگایاہے۔ اس سلسلے میں علاقہ ہالیہ وارڈنمبر13 کے بنجالااورتیلی گڑھ کے لوگوں نے بنیادی سہولیات کے فقدان کی طرف انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔پریس کےلئے جاری ریلیز کے مطابق محلہ کی گلیوں میں ٹائلیں نہیں لگائی گئی ہیں جس سے مقامی لوگوں کوسخت پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ وارڈمیں بنیادی سہولیات کافقدان ہے لیکن انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے انتظامیہ پرلوگوں کوبنیادی سہولیات فراہم کرنے اوروارڈنمبر13 کی تعمیروترقی کےلئے اقدامات اُٹھانے کامطالبہ کیاہے۔

web,

لاہور//پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 53 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاو ¿ن کے گلشن اقبال پارک میں دھماکا ہو اجس کے فوری بعد پولیس اور ریسکیو ادارے متاثرہ مقام پر پہنچے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے کے فوری بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔پولیس نے لاہور کے اقبال ٹاو ¿ن کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والے دھماکے کو خود کش قرار دیا ہے۔اقبال ٹاو ¿ن کے سپرٹینڈنٹ پولیس (ایس پی) محمد اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ خود کش دھماکے میں 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔انھوں نے واقعے میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق دھماکا گلشن اقبال پارک کے اس حصے میں ہوا جہاں بچوں کے جھولے نصب تھے اور مذکورہ مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ہسپتال ذرائع نے دھماکے میں کم سے کم 40 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب ایدھی ذرائع نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 203 تک جا پہنچی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر ایک کے قریب موٹر سائیکل اسٹینڈ میں ہوا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو شیخ زائد ہسپتال اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کو لاہور کے متعدد ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔دھماکے کے فوری بعد حکومت نے لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی زخمیوں کے علاج معالجے کی ہدایت کردی ہے۔دھماکے کے بعد لاہور اور اس اطراف کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔دھماکے کے بعد ہر جانب لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پارک میں ہر جانب لاشیں اور خون بھکرا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد پارک میں افراتفری پھیل گئی اور ہر جانب زخمیوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔لاشوں اور زخمیوں کو ٹیکسی، رکشہ اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق ایسٹر کی وجہ سے شہریوں کی غیر معمولی تعداد اقبال پارک آئی تھی اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود تھیں۔عینی شاہدین کا دعویٰ تھا کہ پارک کی سیکیورٹی کیلئے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن حیدر اشرف کے مطابق دھماکا خود کش تھا،خود کش حملہ آور نوجوان تھا جس نے خود کش بیلٹ باندھ رکھی تھی۔ذرائع کے مطابق صرف جناح اسپتال میں34لاشیں لائی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق خود کش حملہ ا?وور نے گلشن اقبال پارک کے مرکزی دروازے کے قریب جہاں لوگوں کی بڑی تعداد باہر نکل رہی تھی اپنے آپ کو دھماکے سے اڑالیا ،جاںبحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

web

کوٹرنکہ میں راشن کی فراہمی کا مطالبہ


کوٹرنکہ //نیشنل کانفرنس نے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ کوٹرنکہ میں راشن کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ۔یہاں جاری ایک بیان میں پارٹی لیڈر محمد شریف نے کہاکہ پچھلے دو ماہ سے کوٹرنکہ میں راشن فراہم نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں غریب کنبے بھکمری کاشکار ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ سابق وزیر برائے امورصارفین وعوامی تقسیم کاری کے حلقہ میں راشن کی شدید قلت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کو فوری طور پر راشن فراہم کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ علاقے میں لوگوں کے پاس اتنی فصل نہیںہوتی کہ وہ راشن کی سپلائی کے بغیر گزارا کرسکیں۔

webw

مینڈھر میں اﺅرلوڈنگ کے بھیانک مناظر
لوگ سومو سے لٹک کر سفر کرتے ہیں ،ٹریفک عملہ غائب

مینڈھر//مینڈھر تحصیل میں اﺅر لوڈنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور لوگوں نے سومو کی چھت کے بجائے پیچھے والی کھڑکی کھول کر کھڑا ہونا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔مینڈھر تحصیل میںہمیشہ اﺅر لوڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیونکہ گاڑیوں کو چیک کرنے والی ٹریفک پولیس ہمیشہ سے ہفتہ لینے پر بدنام رہی ہے۔ کئی لوگوں کو کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس ہفتہ لے کر ڈرائیوروں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے اور جب بڑا حادثہ ہو جاتا ہے تو کئی لوگوں کی قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔ ا ن کاکہناہے کہ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے حادثات رونما ہوچکے ہیں ۔ مشتاق فانی کا کہنا ہے کہ میندھر میں زیادہ گاڑیاں بغیر کاغذا ت کے چلتی ہیں اور کئی گاڑیاں ایسی بھی ہیں جن کے پرمٹ بھی نہیں۔انہوںنے کہاکہ کئی گاڑیوں کے مالک چالیس پچاس ہزار روپے کی چھوٹی گاڑی لا کر یہاں سڑکوں پر چلانا شروع کر دیتے ہیں لیکن ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں کیونکہ جب ٹریفک پولیس ہفتہ لیتی ہے تو ان کو کیا ضرورت ہے کہ گاڑیوں کے کاغذات چیک کئے جائیں اسلئے ڈرائیور طبقہ کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ جتنی سواریاں لادناچاہیں لاد سکتے ہیں لیکن اگر کوئی حادثہ رونما ہوگیا تواس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ۔عام لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اﺅر لوڈنگ کرنے والوں کیخلاف کڑی کارروائی کی جائے تاکہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔

web

پٹھانکوٹ حملہ:پاکستانی تحقیقاتی ٹیم دلّی پہنچ گئی
آج سے تحقیقاتی عمل شروع ہو گا،NIAہیڈکوارٹر ،پٹھانکوٹ اور سرحد کا دورہ طے

نئی دہلی//پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش کےلئے پاکستانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نئی دہلی پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی ٹیم اتوار کی صبح لاہور ہوائی اڈے سے ایک خصوصی پرواز میں نئی دہلی کیلئے روانہ ہوئی اور کچھ وقت تک ٹیم دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچی۔دہلی ہوائی اڈ ے پر قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی کے عہدیداروں اور پاکستانی سفارتخانہ کے حکام نے اس کا استقبال کیا ۔ یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم آج یعنی پیر نئی دہلی میں واقع این آئی اے ہیڈکوارٹر جائے گی جہاں انہیں این آئی اے ٹیم کی جانب سے پٹھانکوٹ حملہ کی اب تک کی تحقیقات کے بارے میں 90منٹ پر مشتمل پریزنٹیشن دی جائے گی اور اس میں اس حملہ کے سرحد پار تار جڑنے کے حوالے سے شواہد بھی پیش کئے جائیں گے۔ظہرانے کے بعد پاکستانی ٹیم اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کیلئے این آئی اے ٹیم سے سوالات کرے گی اور اس کے بعد منگل کی صبح وہ ایک خصوصی پرواز کے ذریعے پٹھانکوٹ روانہ ہوگی۔جہاں منگل سے بھارتی فضائیہ کے اس ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات شروع کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی اے کی جانب سے ائر بیس کو کچھ اس طرح تار بند کیاجائے گا کہ پاکستانی ٹیم کی حساس علاقوں تک رسائی ممکن نہ ہو او ر وہ ان علاقوں کو دیکھ بھی نہ پائیں جبکہ انہیں صرف وہ مقامات دکھائے جائیں گے جہاں مسلح افراد اور فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اس دہشت گردانہ حملوں کے عینی گواہوں تک رسائی دینے کا منصوبہ ہے تاہم این ایس جی یا بی ایس ایف اہلکاروں تک رسائی نہیں ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو تعاون جوابی تعاون کے اصول پر دیاجائے گا اور عین ممکن ہے کہ اس کے بعد بھارتی ٹیم کو بھی پاکستان جانے کی اجازت دی جائے گی۔معلوم ہوا ہے کہ تمام گواہوں کو حاضر کیاجائے گا جن میں ایس پی پنجاب پولیس سالوندر سنگھ ،اس کا صراف دوست راجیش ورما اور خان ساماں مدن گوپال اور17زخمی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ چاروں دہشت گردوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی جن میں ان کے آبائی گاﺅں کا ذکر اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے انہیں بھارت میں بھامیال گاﺅں کے راستے داخل ہونے میں مدد فراہم کی۔ پاکستانی ٹیم کو سرحد پر اُس مقام پر بھی لیاجائے گا جہاں سے وہ بھارتی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس پانچ رکنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے متعلق مشیر سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان نیپال کے شہر پوکھرا میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس ٹیم کی روانگی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان کی جے آئی ٹیم 27 مارچ کی رات بھارت پہنچے گی اور 28 مارچ سے پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے کام شروع کرے گی۔اس سے پہلے فروری کے مہینے میں پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کےءگئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس ٹیم کے کنوینر ہوں گے۔پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس ٹیم کے سربراہ ہیں، جب کہ ان سول انٹیلی جنس ایجنسی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم ارشد، انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور محکمہ انسداد دہشت گردی گجرانوالہ کے انسپکٹر شاہد تنویر بھی ٹیم میں شامل ہیں۔پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں پاکستان میں فروری کے مہینے میں پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد اس حملے میں ملوث ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کس گروہ یا تنظیم سے ہے۔یاد رہے کہ اس سال دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کہ چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

WEB INFORMATION

گول میں مصوری و مضمون نگاری کا مقابلہ


گول // راشٹریہ رائفلز بٹالین ریاسی نے جانواری ، دچھن ، گول، سلدھار، لانچااور بھیم داسا کے 170 بچوں کےلئے مصوری و مضمون نگاری ‘ مقابلے کااہتمام کیا جس کاموضوع فرقہ وارانہ ہم آہنگی تھا۔ مقابلے میں طلباءنے جوش وخروش سے حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ اس دوران سول انتظامیہ اورفوج کے افسران پرمشتمل منصفین نے بچوں میں انعامات تقسیم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔مقررین نے طلباءپر اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرکے اپنی شخصیت میں نکھارلانے اورملک کےلئے اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے پرزوردیا۔ رام بن حادثہ
فاروق عبداللہ اور جتیندر سنگھ کا اظہار افسوس

رام بن//گزشتہ روز رام بن گول روڈ پر ہڑو گ علاقہ میںرونما ہونے والے سڑک حادثہ پر سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اورشمال مشرقی خطے کی ترقی اور وزیر اعظم کے دفتر میںوزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ جوکہ اودھمپور ۔کٹھوعہ پارلیمانی حلقے کے ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں نے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ کنبوں کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے ۔ اس حادثہ میں 4مزدور لقمہ اجل بن گئے تھے جو کہ ایک ریلوے کنسٹریکشن کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے۔اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور جتندر سنگھ نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مارے گئے افراد کے ارواح کے ابدی سکون کے لئے دعا کی ہے۔انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ سوگوار کنبوں کو ہرممکن امداد فراہم کی جائے۔مشتا ق احمد ، شبیر احمد ، کرنیل چند اور پرویز احمد نامی چار مزدور اُس وقت مارہے گئے جب ایک ٹپر جس میں وہ سفر کرر ہے تھے ہڑوڈ ۔سمبھر سڑک کے نزدیک لڑھکر گہرائی کھائی میں جاگرا ۔دریں اثنا ضلع ترقیاتی کمشنر بشیر احمد ڈار نے ایس ایس پی رندیپ کمار اور دیگر افسروں کے ہمراہ سوگواروں کے گھر جاکر اُن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے حادثے کی جگہ کا دورہ کر کے کمپنی کے حکام کو ہدایت دی کہ سڑک کی تعمیر و تجدید کا کام فوری طور مکمل کیا جائے اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ ایسے حادثات کو روکا جاسکے۔ نٹرنگ کے پانچ روزہ تھیٹرفیسٹیول کاآغاز


جموں// ورلڈتھیٹرڈے تقریبات کے سلسلے میں یہاں نٹرنگ سٹوڈیوتھیٹرکچی چھاﺅنی میں پانچ روزہ تھیٹرفیسٹیول کاآغازنٹرنگ اداکاروں کی طرف سے نیاڈرامہ ”چور“ کی پیشکش کے ساتھ ہوا۔اس دوران ڈرامہ کی ہدایتکاری کے فرائض بلونت ٹھاکور، نیرج کانت اورسمیت شرمانے انجام دیئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلونت ٹھاکور نے کہاکہ نٹرنگ 1985 سے ہرسال تھیٹرفیسٹول منایاجاتاہے۔ ڈرامہ چور کوکثیرتعدادمیں شرکاءنے لطف اٹھایا۔ اس دوران نتیش کول ، شبھم سنگھ، میناکشی بھگت اورپلوی ماتھور نے کردارنبھائے۔ پریس ریلیزکے مطابق فیسٹیول کے دوسرے روز 28 مارچ کوشام چھ بجے بھاگوتی چرن ورماکاتحریرکردہ اوربلونت ٹھاکور کاہدایت کردہ ڈرامہ ’دوکلاکار“ نٹرنگ تھیٹرمیں کھیلاجائے گا۔

sms

Page

No. of Ads. & Size
(1-3 months)
(Introductory Offer)
(Next 3 months)
(Subsequent 6 months)
Home Page
Banner at the top - 1
(60X468 pixels)
Rs 25000 P.M
($521)
Rs 12000 P.M
($250)
Rs 8000 P.M
($167)
Home Page
Banner at the
bottom - 1
(60X468 pixels)
Rs 12500 P.M
($260)
Rs 6000 P.M
($125)
Rs 4000 P.M.
($83)
 
 
 
Other pages
 
 
 
 
 
 

Banner at the bottom - 1
(60X468 pixels)
Rs 10000 P.M
($208)
Rs 4800 P.M
($100)
Rs 3200 P.M
($67)
Tower banner (right hand side) (120x240 pixels)
 
 
Rs 7500 P.M
($156)
 
 
Rs 3600 P.M
($75)
 
 
Rs 2400 P.M
($50)

RAABTA


editorsrinagar@kashmiruzma.net رابطہ کریں 
editorjammu@kashmiruzma.net رابطہ کریں 
0194.2474339,2455453,2486885 فون نمبرات
0194 2477782


WEB

تھنہ منڈی میں خاتون کی پراسرارطور موت


تھنہ منڈی //تھنہ منڈی میں ایک جواں سال خاتون کی پراسرار طور پر موت ہوگئی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ خاتون کی موت زہریلی شے کھانے سے ہوئی ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق 27سالہ مخطوم بیگم زوجہ محمد اقبال ساکن بریون تھنہ منڈی نے کوئی زہریلی شے کھالی اور پھر اس کی لاش گھر میں پائی گئی ۔ بعد میں لاش کو ضلع ہسپتال راجوری لایاگیاجہاں قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد اسے سپرد خاک کردیاگیا۔اس سلسلے میں پولیس نے تھنہ منڈی تھانے میں 174دفعہ کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔

WEBS

الی تھین پر پابندی کا قانون راجوری پونچھ میںندارد
ایس آر او 243کاکوئی پاس و لحاظ نہیں ، 8سرکاری محکمہ جات غفلت میں

راجوری //سائنسدانوں کی طرف سے پولی تھین کے استعمال کے خطرات سے بارہا انتباہ کئے جانے کے باوجود حکام خاموش سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں اور لوگ کھلے عام ان لفافوں کا استعمال کررہے ہیں ۔حالانکہ اس سلسلے میں ایس آر او 243بتاریخ 2011جاری کرکے اس پر پابندی بھی عائد کی گئی لیکن راجوری اور پونچھ اضلاع میں کہیں پر بھی اس پر عمل ہوتادکھائی نہیں دے رہا اور ایسا لگتاہے جیسے ان اضلاع میں یہ قانون نافذ ہی نہیں ۔راجوری اور پونچھ کے تمام قصبوں راجوری ، منجاکوٹ ، تھنہ منڈی ، درہال ، کنڈی ، بدھل ، کالاکوٹ ، نوشہرہ ، تریاٹھ ، سندر بنی ، مینڈھر ، سرنکوٹ ، پونچھ اور منڈی کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی پولی تھین کا استعمال کھلے عام جاری ہے اور پھر انہی لفافوں کو بعد میں پانی کے نالوں میں پھینک دیاجاتاہے۔وہیں دکاندار بھی بغیر کسی خوف و ڈر کے لفافوں کوفروخت کررہے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ راجوری پونچھ میں پولی تھین لفافوں کے استعمال کا کوئی معائنہ ہی نہیں کیاجارہااور تمام سرکاری ایجنسیاں خاموش بیٹھی ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے 2011میں ایس آر او 243جموں و کشمیر نان بائیوڈی گریڈ میٹریل ایکٹ 2007کے تحت آٹھ سرکاری محکمہ جات کے افسران کو ہدایت دی تھی کہ وہ پولی تھین کے استعمال کی سختی سے چیکنگ کریں ۔ان میں پولوشن کنٹرول بورڈ ، سب ڈیویژنل مجسٹریٹ /تحصیلدار اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ ، چیف ایگزیکٹو افسر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز،سیکریٹری اور انفورسمنٹ افسر لاڈا ، ہیلتھ افسر ان ، خلاف ورزی افسران ،جے ایم سی اور ایس ایم سی کے چیف انفورسمنٹ افسران ،میونسپل باڈیز کے افسران ، وائلڈ لائف وارڈن /رینج افسران اور محکمہ جنگلات کے رینج افسران یا اس سے بڑے عہدے کے افسران شامل ہیں ۔پولوشن کنٹرول بورڈ کا سب سے اہم کام یہ بھی ہے کہ ضبط کئے گئے لفافے اسے ٹھکانے لگانے ہیں ۔تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ ایس آراو کی کے تحت جاری ہوئی ہدایات پر ابھی بھی عمل درآمد نہیںہوناباقی ہے ۔اگرذرائع پر یقین کرلیاجائے تو پتہ چلتاہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر ان ہدایات کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں کی گئیں اورتمام محکمہ جات نے مل کر مشکل سے ایک کوئنٹل پولی تھین ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ پولوشن کنٹرول بورڈ کو دیئے ہوںگے۔رابطہ کرنے پر راجوری پونچھ ڈیویژنل افسر پولوشن کنٹرول بورڈ ارشد مرزا نے اس بات کی تصدیق کی کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں میونسپل کمیٹی راجوری نے پولوشن کنٹرول بورڈ کو ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے ہیں جو محکمہ اور میونسپلٹی کی مشترکہ کارروائی کے دوران ضبط کئے گئے ۔انہوںنے مزید بتایاکہ اس کے علاوہ راجوری پونچھ کی کسی بھی دوسری میونسپل کمیٹی نے پولی تھین ان کو نہیں دیئے ۔مرزا کاکہناتھا”پچھلے ڈیڑھ سال میں راجوری اور پونچھ سے صرف ایک کوئنٹل پولی تھین دیئے گئے ہیں “۔ڈپٹی کمشنر راجوری شبیر احمد بٹ نے کہاکہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے کہ ایس آراو کی ہدایات پر کیوں عمل نہیںہورہا۔وہیں ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد ہارون ملک کاکہناہے کہ وہ ایس آراو کی ہدایات پر عمل آوری کا جائزہ لیںگے۔

NEW WEB

کشمیر اور کشمیریت پنڈتوں کے بغیر ادھورے
مائیگرنٹوں کی پُر وقار واپسی یقینی بنانے کی ضرورت: غلام احمد میر

جموں//کشمیر اور کشمیریت کوکشمیری پنڈتوں کے بغےر ادھوراا قرار دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ مذہبی روا داری ، تحفظ اور سلامتی کے ماحول میں مائیگرنٹ پنڈتوں کی واپسی اور باز آباد کاری کافی چلینجنگ و نامکمل کام ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کشمیریت کی فلاح وبہبود اور بحالی کے مفاد میں ہےں،انہیں اس ضمن میں مثبت اور کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔کانگریس بیان کے مطابق جموں میں پردیش کانگریس کمیٹی مائیگرنٹ سیل کی ایگزیکٹیو میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا ہے کہ کشمیر اور کشمیریت کشمیری پنڈتوں کے بغےر ادھورا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مائیگرنٹ پنڈتوں کی واپسی اور باز آباد کاری ناگزیر ہے کیونکہ کشمیری ہمیشہ سے ہی سکیولر اصولوں کا پابند رہا ہے جبکہ کشمیر ہر دور میں ہم آہنگی ،بھائی چارہ اور مذہبی رواداری کا گہوارا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مائیگرنٹ پنڈتوں کی واپسی اور باز آباد کاری کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرور ت ہے۔انہوںنے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی وقار کے ساتھ واپسی اور انہیں تحفظ کے ساتھ مذہبی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے تاکہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ صدیوں پرانی روایت کے تحت ملنساری کے جذبے کے ساتھ دکھ سکھ میں زندگی گزار سکے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت کشمیری سماج کا ایک اہم جذ ہے اور کشمیر ہمیشہ سے ہی مذہبی رواداری ، بھائی چارہ اور سیکولر ثقافت کا گہوارہ رہا ہے جسے عرف عام میں کشمیریت کہا جاتا ہے جبکہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی ابھی بھی نامکمل ایجنڈا ہے۔ اس تقریب میں پردیش کانگریس کمیٹی مائیگرنٹ سیل کے چیرمین ہیرا لعل پنڈتا نے مہمان خصوصی کے بطور شرکت کی جبکہ انہی کی صدارت میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب میں کانگریس کے جن سینئر لیڈران نے شرکت کی ان میں نائب صدور ملا رام ،جی این مونگا،کانتا بہن، رویندر شرما،فاروق اندرابی، وکرم ملہوترا ، انل چوپرا اور عابد کشمیری شامل ہے۔غلام احمد میر نے کشمیری پنڈتوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں تہذیب و تمدن اور ثقافتی و سماجی مراسم کو دوبارہ پیدا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائےں اور کشمیر میں بھائی چارہ ، مذہبی ہن آہنگی کا ماحول قائم کرنے میں اپنا تعاون دیں تاکہ کشمیر میں ایک خوشگوار ماحول قائم ہوسکے ۔اس موقعے پر غلام احمد میر نے مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کے مسائل کو ہر فورم پر اٹھانے اور انہیں بھرپور تعاون فراہم کرنے کیلئے یقین دہانی کرائیں۔انہوں نے مائیگرنٹ سیل پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر کانگریس کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائےں تاکہ ان کے مسائل کا حل اعتماد کے ساتھ نکالا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی پالیسی اور پروگرام واضح ہے اور اس حوالے سے کانگریس کا موقف اٹل ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس عوام کے جائز مطالبات کو پرا کرانے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے پُر عزم ہے۔اس موقعے پر کشمیری مائیگرنٹ پنڈتوں کے کئی مسائل کو اجاگر کیا گیا جن میں راشن کی فراہمی ، ریلیف ، وزیر اعظم ایمپلائیمنٹ پیکیج اور دیگر مراعت شامل ہے۔تقریب میں ایم این پنڈیا( وائیس چیرمین)،غلام قادر بٹ(کنوینر)، شادی لعل پنڈتا(کو کنوینر)، کرن رینا(جنرل سکریٹری)، اجے بھارتی (جوائنٹ سکریٹری) اور دےگر عہدیداران و کارکنان نے بھی خطاب کیا

WEB

یسے بنائیں اپنی ویب سائٹ؟


اگر آپ اپنی ویب سائٹ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ویب ڈیولپمنٹ کے بارے میں تھوڑا بہت علم ہونا چاہئے۔ آپ صرف اردو میں ویب سائٹ بناتے ہیں تو آپ صرف اردو بولنے والوں تک رسائی حاصل کر رہے ہونگے۔ اور انگریزی بولنے والوں تک آپ نہیں پہنچ سکیں گے۔دنیا بھر میںڈیڑھ بلین 1.5 billion سائٹیں ہیں۔ ماہرین نے بنیادی معلومات میسر کروائی ہیں جس کے مطابق اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کیلئے ’ڈومین نیم‘خریدنا ہوگا۔ ڈومین نیم سننے میں یہ لفظ تکنیکی قسم کا محسوس ہوتا ہے، لیکن اسے سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ ویب سائٹ کا ویب ایڈریس ہے۔ وہی اڈریس، جو انٹرنیٹ ایکسپلورر، کروم یا فائرفوکس جیسے براؤزر کے ایڈریس بار میں ڈالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرgoogle.com‘yahoo.com یاFacebook.comوغیرہ۔ ایسے ایڈریس ہر ویب سائٹ کی شناخت ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جس طرح لفافے پر ڈاک کا پتہ ہونا ضروری ہے، اسی طرح کی ویب سائٹ کیلئے ڈومین نیم ہونالازم ہے۔
ڈومین نیم کی فیس:
-           ڈومین نیم کیلئے سالانہ فیس لگتی ہے جو 100 روپے سے لے کر 500تا600 سو روپے تک ہو سکتی ہے۔
-           الگ الگ’قسم‘کے ڈومین نیم کیلئے الگ الگ قیمت ہے۔
-           قسم؟ جی ہاں، آپ نے مختلف قسم کے ویب ایڈریس نہیں دیکھے؟ جیسےusa.net, yahoo.com, cseindia.org, olx.in وغیرہ۔
-           ڈومین نیم میں نقطہ (.) کے بعد آنے والے حصے کو ڈومین توسیع کہا جاتا ہے۔
-مختلف ڈومین توسیع کیلئے مختلف شرح وصول کی جاتی ہیں، جو ڈیمانڈ اور سپلائی کے قانون کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
- کبھی کبھار.in ڈومین نیم محض 85روپے میں دستیاب ہو جاتا ہے تو کبھی وہی 500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
- بہر حال، سب سے زیادہ مقبول ڈومین ایکسٹنشن.com ہے، جو ان دنوں 500 روپے کے قریب میسر ہے۔
تجاوزات کی قسمیں:
- ڈومین ایکسٹنشن کئی طرح کے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص کاموں کیلئے مختص ہیں:
.edu: اسکول‘ کالج اوریونیورسٹیوں کیلئے
.gov: حکومتوں کیلئے
.mil: فوج کیلئے۔
- سب سے زیادہ مشہور توسیع ڈاٹ کام .com ہے، جس کے نام پربعض مرتبہ پوری ویب دنیا کو ہی’ڈاٹ کام‘ کہہ دیا جاتا ہے۔
- دو اور اہم ڈومین ایکسٹنشن ہیں:.net, .org اور.info ان سب کو ٹاپ لیول ڈومین یا’ٹی ایل ڈی‘ کہا جاتا ہے۔
- ان کے علاوہ ہر ملک کیلئے بھی ڈومین ایکسٹنشن ریزرو کئے گئے ہیں، جنہیں کنٹری کوڈ ٹاپ لیول ڈومین کہا جاتا ہے۔ جیسے ہندوستان کیلئے.in، امریکہ کیلئے.us وغیرہ۔
- آپ کی ویب سائٹ کیلئے mysite.com ڈومین نیم پسند کریں گے یا mysite.in اس کا فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے۔
- ڈومین ایکسٹنشن تبدیل کرنے سے ویب سائٹ کی پرفارمینس  پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
- آپ انگریزی کے 63 حروف کی حد کے اندر اندر رہتے ہوئے جیسا چاہیں ڈومین نیم رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے استعمال پر کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
کیا ڈومین نیم لینے پر میری ویب سائٹ انٹرنیٹ پر آ جائے گی؟
- نہیں، وہ محض پہلی سیڑھی ہے۔ ابھی تو آپ کو ویب سائٹ بنوانی ہے اور پھر اسے انٹرنیٹ پر پیش کرنے کیلئے اسپیس بھی خریدنی ہے۔
کہاں ہوگا رجسٹریشن؟
- دنیا میں ڈومین نیموں کے نظام کو چلانے کیلئے انٹرنیٹ آرگنائزیشن آف اسائنڈ نیمس اینڈ نمبرس ICANN  نامی تنظیم کرتی ہے۔
- اس نے ڈومین نیم رجسٹریشن کیلئے متعددکمپنیوں کوآ تھرائز کیا ہوا ہے، جنہیں ڈومین رجسٹرار کہا جاتا ہے۔
- آپ ان کے توسط سے یا ان کے ری سیلرسResellers  کے ذریعے اپنا ڈومین نیم رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔
- کچھ اہم ڈومین نیم رجسٹرار ہیں:
networksolutions.com
net4.in
bigrock.in
in.godaddy.com
registry.in
siliconhouse.net
enom.com
namecheap.com
domains.org
economicalhost.com
رجسٹریشن کیسے کروائیں؟
- ڈومین نیم رجسٹریشن انتہائی آسان ہے۔
- آپ کا پسندیدہ ڈومین نیم رجسٹرار کی ویب سائٹ پر جائیے۔
- وہاں موجود ٹیکسٹ باکس میں اپنا پسند کا ڈومین نیم لکھیں اور تلاش یا سرچ کا بٹن دبائیں۔
- اگر نام دستیاب ہے تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ اسے فوری طور پر رجسٹر کروانا چاہتے ہیں؟
- اگر ہاں، تو ضروری تفصیلات  جیسے اپنا نام، پتہ، ای میل اڈریس وغیرہ تحریرکریں۔
- اس کے بعد کریڈٹ کارڈ سے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کر دیں۔
- کچھ ہی سیکنڈ میں آپ کے ای میل ایڈریس پر کنفرمیشن میل آ جائے گی جس میں ڈومین نیم کامیابی سے رجسٹر کر دئے جانے کی اطلاع ہے۔
- اگر مستقبل میں آپ کبھی نام، ایڈریس وغیرہ میں کوئی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو ویب سائٹ کے کنٹرول پینل کایوزرنیم اور پاس ورڈ بھی ملے گا۔
نوٹ: کسی نئی یا مشترکہ فرم کی بجائے کسی مستحکم کمپنی کے ذریعے ڈومین رجسٹریشن کروائیں، بھلے وہاں رجسٹریشن ذرا مہنگی ہی کیوں نہ پڑے کیونکہ بعض مرتبہ چھوٹی کمپنیاں بند ہو جاتی ہیں اور ان سے وابستہ تمام لوگ معلق رہ جاتے ہیں۔
مفت کے ڈومین نیم:
- گوگل ہندوستانی کاروباری لوگوں کو ایک سال کیلئے. in ڈومین اور فری ویب ہوسٹنگ کی سہولت دے رہا ہے۔
- اس کیلئے indiagetonline.in پر جائیں.
- اگر آپ کیلئے آپ کی ویب سائٹ کا ڈومین ایکسٹنشن کوئی خاص معنی نہیں رکھتا تو آپ ایسے ڈومین نیم بھی لے سکتے ہیں، جن کے ہمیشہ فری رہنے کا خدشہ ہے۔ایسے3 تجاوزات ہیں:
. co.cc (رجسٹریشن یہاںکروائیں www.co.cc)
. co.nr (freedomain.co.nr)
. tk (freedomains.sriz.tk)
- یہ فری ڈومین نیم کچھ اس طرح کا ہوگا: mysite.co.cc، mysite.co.nr
- کچھ ویب ہوسٹنگ ویب سائٹس سال بھر کا ویب ہوسٹنگ پیکیج لینے پر مفت ڈومین نیم دیتی ہیں، مثلا: networksolutions.com
کیسے تلاش کریں نام؟
- ڈومین نیم رجسٹر کرنے والی تقریبا تمام ویب سائٹس پر ایک آلہ دستیاب ہوتا ہے، جس کا استعمال کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ اپنا پسندیدہ ڈومین نیم رجسٹر کروانے کیلئے دستیاب ہے یا کسی اور نے اسے پہلے ہی لے لیا ہے۔
- بعض  ویب سائٹیں ایسی بھی ہیں، جو خاص طور پر اسی طرح کی چیکنگ کیلئے بنائی گئی ہیں‘ مثلا:
checkdomain.com
domainsearch.com
instantdomainsearch.com
کس نے لیا میرا نام؟
اگر آپ کا پسندیدہ ڈومین نیم کسی اور نے رجسٹر کروا رکھا ہے تو اس شخص تک پہنچنا ناممکن نہیں۔
- Whois نامی آلے کو استعمال کرتے ہوئے آپ کا نام، پتہ، ای میل اڈریس، فون نمبر، ڈومین رجسٹر کروانے کی تاریخ، اس کے ایکسپائر ہونے کی تاریخ وغیرہ کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
- بعض  ویب سائٹیں یہی تفصیلات مہیا کرتی ہیں، مثلا:
whois.net
whois.com / whois
whois.sc
internic.net / whois.html
who.godaddy.com
کیسا ہو آپ کا ڈومین نیم؟
- جتنا چھوٹا اتنا اچھا۔
- نام جتنا طویل ہوگا، لوگوں کو اسے یاد رکھنے اتنی ہی پریشانی ہوگی۔
- ایسے لوگ کئی بار چاہ کر بھی آپ کی سائٹ تک آ نہیں سکیں گے۔
- چھوٹا نام یاد تو رہتا ہی ہے، ٹائپنگ میں خرابی کا خدشہ بھی کم رہتی ہے۔
 - vishwahindisammelan.com جیسے لمبے ڈومین نیم کو ٹائپ کرنا مشکل ہوگا، بہ نسبت ebay.com کے۔
نام جو اپیل کرے:
- پرکشش،دلکش اور آسانی سے یاد رہ جاتے ہیں. مثلا: paisa.com، jaldi.com، merinews.com وغیرہ.
آسان اسپیلنگ:
- آج کل اسپیلنگ الٹ پلٹ کر نام رکھنے کا رجحان چل نکلا ہے. مثلا: saavn.com، flickr.com یا myntra.com.
- ایسی اسپیلنگ کو بھولنا بہت آسان ہے،جبکہ یاد رکھنا مشکل!
- آپ تک آنے والے کو پہیلی میں الجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ savan.com، flicker.com یا mantra.com  زیادہ آسان نام ہیں۔
برانڈ سے متعلق نام:
- اپنے، اپنے ادارے یا برانڈ کے نام سے وابستہ نام ہمیشہ اچھا رہتا ہے۔
- کوکا کولا کمپنی کی ویب سائٹ پر جانے کے خواہش مند شخص کے دل میں سب سے پہلے cocacola.com ویب ایڈریس ہی آئے گا۔
- حالانکہ سرچ انجنوں نے کام آسان کر دیا ہے، اس لئے تھوڑا الٹا - پلٹا نام ہونے پر بھی لوگ ویب سائٹ تک پہنچ ہی جاتے ہیں، لیکن ایک دم درست نام موجود ہے تو خواہ مخواہ نام کو بگاڑنے کا کیافائدہ!
کام سے متعلق نام:
- اگر برانڈ یا نام سے متعلق ڈومین نیم دستیاب نہ ہو تو اپنے علاقے سے متعلق نام لینے میں بھی حرج نہیں ہے۔ مثلا، خبروں سے وابستہ اداروں کیلئے news.com
یا jaipurirazai.com (جے پور رضائی ڈاٹ کام)۔
- ایسے نام بہت ڈیمانڈ میں ہیں اور اب آسانی سے نہیں ملتے لیکن یہ بہت زیادہ ’سرچ ریزلٹوSearch Resulive  ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ خبریں دیکھنے کیلئے سرچ انجن میں news یا jaipuri razai جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ اس وقت ایسی ویب سائٹیں سرچ ریزلٹسSearch Results  میں سب سے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔
- تلاش دوست کا نام رجسٹر کرواتے وقت سوچیں کہ سرچ اجنوں پر کیا مطلوبہ الفاظ ٹائپ کرنے والے آپ کی سائٹ تک پہنچیں؟
- ڈومین نیم اس لفظ کے جتنا قریب ہوگا، انٹرنیٹ پر سائٹ کی ویزی بلٹی Visibility  اتنی ہی بڑھے گی۔
- جیسے ہندی کی کتابیں شائع کرنے والے پبلیشرز کیلئے hindipublisher.com یا hindibooks.com اچھے نام ہو سکتے ہیں.
پوائنٹ کا استعمال:
- ڈومین نیم میں پوائنٹ، ہائی فن وغیرہ کے استعمال سے بچیں۔
- ایسے نام یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے، ٹائپنگ مشکل ہوتی ہے اور وہ رن - پڑھنے میں بھی اٹپٹے لگتے ہیں۔
ڈاٹ کام بہتر ہے یاڈاٹ ان؟
- عام ویب ساٹوں کیلئے ڈاٹ کام بہتر توسیع ہے، کیونکہ ویب سائٹ کے نام کا تصور کرنے پر سب سے پہلے ڈاٹ کام ہی ذہن میں آتا ہے۔
-ڈاٹ کام ہی دنیا کا سب سے مشہور ڈومین نیم ایکس ٹنشن بھی ہے اور ڈومین نیم رسیل مارکیٹ میں انہی ناموں کو سب سے زیادہ اہم بھی سمجھا جاتا ہے۔
- جہاں تک ممکن ہو، کاروباری لوگوں کو بھی اسی تجاوزات والا ڈومین نیم لینا چاہئے۔
- تعلیمی اداروں کو. edu یا. org، غیر سرکاری  اداروں کو. org تجاوزات کو ترجیح دینی چاہئے۔
- ہندوستانی کمپنیوں کے درمیان. in توسیع. com کے بعد دوسری سب سے بڑی پسند ہے۔
- ٹی وی چینلوں میں. tv توسیع مشہور ہے، جودر اصل ایک چھوٹے سے ملک توالو کا کنٹری لیول ڈومین نیم ہے۔
- ڈومین ایکسٹنشن کے ساتھ دلچسپ کمبی نیشن بنانے کا بھی رواج ہے، مثلا: come.in، del.icio.us ایسے توسیع watch.tv. نہ ہوتے ہوئے بھی پسند کئے جاتے ہیں کیونکہ ایک تویہ دلچسپ ہیں جبکہ دوسرے ویب سائٹ کے کام کاج کی طرف بھی درست اشارہ کرتے ہیں۔
آئی پی اڈریس اور ڈومین نیم میں فرق
کیا ڈومین نیم کے بغیر کسی ویب سائٹ پر پہنچ پانا ممکن نہیں ہے؟
- نہیں، ایساممکن نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ہر ویب سائٹ یا خدمت کا ایک خاص ایڈریس ہونا ضروری ہے لیکن بنیادی طور پر یہ ایڈریس چار پوائنٹ کے جوڑوں کی شکل میں ہوتا ہے، جسے آئی پی ایڈریس کہا جاتا ہے۔
- مثال کے طور پر 72.30.38.140 یاہو کے ویب پورٹل کا آئی پی اڈریس ہے۔ آپ چاہیں تو اپنے براوزر میںhttp://72.30.38.140 ڈال کر دیکھ سکتے ہیں، یاہو کی ویب سائٹ کھل جائے گی۔
- لیکن اس طرح کے ایڈریس کو یاد رکھنا عام انسان کے بس کا روگ نہیں۔ آخر کوئی کتنے ایڈریس یاد رکھ سکتا ہے، حد سے حد چار یا پانچ! یہیں ضرورت پڑتی ہے ڈومین نیم کی۔
- ڈومین نیم سسٹم کے ذریعے ایسے ہر اڈریس کے ساتھ ایک ایسا نام کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جسے

WEB

یسے بنائیں اپنی ویب سائٹ؟


اگر آپ اپنی ویب سائٹ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ویب ڈیولپمنٹ کے بارے میں تھوڑا بہت علم ہونا چاہئے۔ آپ صرف اردو میں ویب سائٹ بناتے ہیں تو آپ صرف اردو بولنے والوں تک رسائی حاصل کر رہے ہونگے۔ اور انگریزی بولنے والوں تک آپ نہیں پہنچ سکیں گے۔دنیا بھر میںڈیڑھ بلین 1.5 billion سائٹیں ہیں۔ ماہرین نے بنیادی معلومات میسر کروائی ہیں جس کے مطابق اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کیلئے ’ڈومین نیم‘خریدنا ہوگا۔ ڈومین نیم سننے میں یہ لفظ تکنیکی قسم کا محسوس ہوتا ہے، لیکن اسے سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ ویب سائٹ کا ویب ایڈریس ہے۔ وہی اڈریس، جو انٹرنیٹ ایکسپلورر، کروم یا فائرفوکس جیسے براؤزر کے ایڈریس بار میں ڈالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرgoogle.com‘yahoo.com یاFacebook.comوغیرہ۔ ایسے ایڈریس ہر ویب سائٹ کی شناخت ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ جس طرح لفافے پر ڈاک کا پتہ ہونا ضروری ہے، اسی طرح کی ویب سائٹ کیلئے ڈومین نیم ہونالازم ہے۔
ڈومین نیم کی فیس:
-           ڈومین نیم کیلئے سالانہ فیس لگتی ہے جو 100 روپے سے لے کر 500تا600 سو روپے تک ہو سکتی ہے۔
-           الگ الگ’قسم‘کے ڈومین نیم کیلئے الگ الگ قیمت ہے۔
-           قسم؟ جی ہاں، آپ نے مختلف قسم کے ویب ایڈریس نہیں دیکھے؟ جیسےusa.net, yahoo.com, cseindia.org, olx.in وغیرہ۔
-           ڈومین نیم میں نقطہ (.) کے بعد آنے والے حصے کو ڈومین توسیع کہا جاتا ہے۔
-مختلف ڈومین توسیع کیلئے مختلف شرح وصول کی جاتی ہیں، جو ڈیمانڈ اور سپلائی کے قانون کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
- کبھی کبھار.in ڈومین نیم محض 85روپے میں دستیاب ہو جاتا ہے تو کبھی وہی 500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
- بہر حال، سب سے زیادہ مقبول ڈومین ایکسٹنشن.com ہے، جو ان دنوں 500 روپے کے قریب میسر ہے۔
تجاوزات کی قسمیں:
- ڈومین ایکسٹنشن کئی طرح کے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص کاموں کیلئے مختص ہیں:
.edu: اسکول‘ کالج اوریونیورسٹیوں کیلئے
.gov: حکومتوں کیلئے
.mil: فوج کیلئے۔
- سب سے زیادہ مشہور توسیع ڈاٹ کام .com ہے، جس کے نام پربعض مرتبہ پوری ویب دنیا کو ہی’ڈاٹ کام‘ کہہ دیا جاتا ہے۔
- دو اور اہم ڈومین ایکسٹنشن ہیں:.net, .org اور.info ان سب کو ٹاپ لیول ڈومین یا’ٹی ایل ڈی‘ کہا جاتا ہے۔
- ان کے علاوہ ہر ملک کیلئے بھی ڈومین ایکسٹنشن ریزرو کئے گئے ہیں، جنہیں کنٹری کوڈ ٹاپ لیول ڈومین کہا جاتا ہے۔ جیسے ہندوستان کیلئے.in، امریکہ کیلئے.us وغیرہ۔
- آپ کی ویب سائٹ کیلئے mysite.com ڈومین نیم پسند کریں گے یا mysite.in اس کا فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے۔
- ڈومین ایکسٹنشن تبدیل کرنے سے ویب سائٹ کی پرفارمینس  پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
- آپ انگریزی کے 63 حروف کی حد کے اندر اندر رہتے ہوئے جیسا چاہیں ڈومین نیم رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے استعمال پر کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
کیا ڈومین نیم لینے پر میری ویب سائٹ انٹرنیٹ پر آ جائے گی؟
- نہیں، وہ محض پہلی سیڑھی ہے۔ ابھی تو آپ کو ویب سائٹ بنوانی ہے اور پھر اسے انٹرنیٹ پر پیش کرنے کیلئے اسپیس بھی خریدنی ہے۔
کہاں ہوگا رجسٹریشن؟
- دنیا میں ڈومین نیموں کے نظام کو چلانے کیلئے انٹرنیٹ آرگنائزیشن آف اسائنڈ نیمس اینڈ نمبرس ICANN  نامی تنظیم کرتی ہے۔
- اس نے ڈومین نیم رجسٹریشن کیلئے متعددکمپنیوں کوآ تھرائز کیا ہوا ہے، جنہیں ڈومین رجسٹرار کہا جاتا ہے۔
- آپ ان کے توسط سے یا ان کے ری سیلرسResellers  کے ذریعے اپنا ڈومین نیم رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔
- کچھ اہم ڈومین نیم رجسٹرار ہیں:
networksolutions.com
net4.in
bigrock.in
in.godaddy.com
registry.in
siliconhouse.net
enom.com
namecheap.com
domains.org
economicalhost.com
رجسٹریشن کیسے کروائیں؟
- ڈومین نیم رجسٹریشن انتہائی آسان ہے۔
- آپ کا پسندیدہ ڈومین نیم رجسٹرار کی ویب سائٹ پر جائیے۔
- وہاں موجود ٹیکسٹ باکس میں اپنا پسند کا ڈومین نیم لکھیں اور تلاش یا سرچ کا بٹن دبائیں۔
- اگر نام دستیاب ہے تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ اسے فوری طور پر رجسٹر کروانا چاہتے ہیں؟
- اگر ہاں، تو ضروری تفصیلات  جیسے اپنا نام، پتہ، ای میل اڈریس وغیرہ تحریرکریں۔
- اس کے بعد کریڈٹ کارڈ سے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کر دیں۔
- کچھ ہی سیکنڈ میں آپ کے ای میل ایڈریس پر کنفرمیشن میل آ جائے گی جس میں ڈومین نیم کامیابی سے رجسٹر کر دئے جانے کی اطلاع ہے۔
- اگر مستقبل میں آپ کبھی نام، ایڈریس وغیرہ میں کوئی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو ویب سائٹ کے کنٹرول پینل کایوزرنیم اور پاس ورڈ بھی ملے گا۔
نوٹ: کسی نئی یا مشترکہ فرم کی بجائے کسی مستحکم کمپنی کے ذریعے ڈومین رجسٹریشن کروائیں، بھلے وہاں رجسٹریشن ذرا مہنگی ہی کیوں نہ پڑے کیونکہ بعض مرتبہ چھوٹی کمپنیاں بند ہو جاتی ہیں اور ان سے وابستہ تمام لوگ معلق رہ جاتے ہیں۔
مفت کے ڈومین نیم:
- گوگل ہندوستانی کاروباری لوگوں کو ایک سال کیلئے. in ڈومین اور فری ویب ہوسٹنگ کی سہولت دے رہا ہے۔
- اس کیلئے indiagetonline.in پر جائیں.
- اگر آپ کیلئے آپ کی ویب سائٹ کا ڈومین ایکسٹنشن کوئی خاص معنی نہیں رکھتا تو آپ ایسے ڈومین نیم بھی لے سکتے ہیں، جن کے ہمیشہ فری رہنے کا خدشہ ہے۔ایسے3 تجاوزات ہیں:
. co.cc (رجسٹریشن یہاںکروائیں www.co.cc)
. co.nr (freedomain.co.nr)
. tk (freedomains.sriz.tk)
- یہ فری ڈومین نیم کچھ اس طرح کا ہوگا: mysite.co.cc، mysite.co.nr
- کچھ ویب ہوسٹنگ ویب سائٹس سال بھر کا ویب ہوسٹنگ پیکیج لینے پر مفت ڈومین نیم دیتی ہیں، مثلا: networksolutions.com
کیسے تلاش کریں نام؟
- ڈومین نیم رجسٹر کرنے والی تقریبا تمام ویب سائٹس پر ایک آلہ دستیاب ہوتا ہے، جس کا استعمال کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ اپنا پسندیدہ ڈومین نیم رجسٹر کروانے کیلئے دستیاب ہے یا کسی اور نے اسے پہلے ہی لے لیا ہے۔
- بعض  ویب سائٹیں ایسی بھی ہیں، جو خاص طور پر اسی طرح کی چیکنگ کیلئے بنائی گئی ہیں‘ مثلا:
checkdomain.com
domainsearch.com
instantdomainsearch.com
کس نے لیا میرا نام؟
اگر آپ کا پسندیدہ ڈومین نیم کسی اور نے رجسٹر کروا رکھا ہے تو اس شخص تک پہنچنا ناممکن نہیں۔
- Whois نامی آلے کو استعمال کرتے ہوئے آپ کا نام، پتہ، ای میل اڈریس، فون نمبر، ڈومین رجسٹر کروانے کی تاریخ، اس کے ایکسپائر ہونے کی تاریخ وغیرہ کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
- بعض  ویب سائٹیں یہی تفصیلات مہیا کرتی ہیں، مثلا:
whois.net
whois.com / whois
whois.sc
internic.net / whois.html
who.godaddy.com
کیسا ہو آپ کا ڈومین نیم؟
- جتنا چھوٹا اتنا اچھا۔
- نام جتنا طویل ہوگا، لوگوں کو اسے یاد رکھنے اتنی ہی پریشانی ہوگی۔
- ایسے لوگ کئی بار چاہ کر بھی آپ کی سائٹ تک آ نہیں سکیں گے۔
- چھوٹا نام یاد تو رہتا ہی ہے، ٹائپنگ میں خرابی کا خدشہ بھی کم رہتی ہے۔
 - vishwahindisammelan.com جیسے لمبے ڈومین نیم کو ٹائپ کرنا مشکل ہوگا، بہ نسبت ebay.com کے۔
نام جو اپیل کرے:
- پرکشش،دلکش اور آسانی سے یاد رہ جاتے ہیں. مثلا: paisa.com، jaldi.com، merinews.com وغیرہ.
آسان اسپیلنگ:
- آج کل اسپیلنگ الٹ پلٹ کر نام رکھنے کا رجحان چل نکلا ہے. مثلا: saavn.com، flickr.com یا myntra.com.
- ایسی اسپیلنگ کو بھولنا بہت آسان ہے،جبکہ یاد رکھنا مشکل!
- آپ تک آنے والے کو پہیلی میں الجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ savan.com، flicker.com یا mantra.com  زیادہ آسان نام ہیں۔
برانڈ سے متعلق نام:
- اپنے، اپنے ادارے یا برانڈ کے نام سے وابستہ نام ہمیشہ اچھا رہتا ہے۔
- کوکا کولا کمپنی کی ویب سائٹ پر جانے کے خواہش مند شخص کے دل میں سب سے پہلے cocacola.com ویب ایڈریس ہی آئے گا۔
- حالانکہ سرچ انجنوں نے کام آسان کر دیا ہے، اس لئے تھوڑا الٹا - پلٹا نام ہونے پر بھی لوگ ویب سائٹ تک پہنچ ہی جاتے ہیں، لیکن ایک دم درست نام موجود ہے تو خواہ مخواہ نام کو بگاڑنے کا کیافائدہ!
کام سے متعلق نام:
- اگر برانڈ یا نام سے متعلق ڈومین نیم دستیاب نہ ہو تو اپنے علاقے سے متعلق نام لینے میں بھی حرج نہیں ہے۔ مثلا، خبروں سے وابستہ اداروں کیلئے news.com
یا jaipurirazai.com (جے پور رضائی ڈاٹ کام)۔
- ایسے نام بہت ڈیمانڈ میں ہیں اور اب آسانی سے نہیں ملتے لیکن یہ بہت زیادہ ’سرچ ریزلٹوSearch Resulive  ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ خبریں دیکھنے کیلئے سرچ انجن میں news یا jaipuri razai جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ اس وقت ایسی ویب سائٹیں سرچ ریزلٹسSearch Results  میں سب سے اوپر دکھائی دیتے ہیں۔
- تلاش دوست کا نام رجسٹر کرواتے وقت سوچیں کہ سرچ اجنوں پر کیا مطلوبہ الفاظ ٹائپ کرنے والے آپ کی سائٹ تک پہنچیں؟
- ڈومین نیم اس لفظ کے جتنا قریب ہوگا، انٹرنیٹ پر سائٹ کی ویزی بلٹی Visibility  اتنی ہی بڑھے گی۔
- جیسے ہندی کی کتابیں شائع کرنے والے پبلیشرز کیلئے hindipublisher.com یا hindibooks.com اچھے نام ہو سکتے ہیں.
پوائنٹ کا استعمال:
- ڈومین نیم میں پوائنٹ، ہائی فن وغیرہ کے استعمال سے بچیں۔
- ایسے نام یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے، ٹائپنگ مشکل ہوتی ہے اور وہ رن - پڑھنے میں بھی اٹپٹے لگتے ہیں۔
ڈاٹ کام بہتر ہے یاڈاٹ ان؟
- عام ویب ساٹوں کیلئے ڈاٹ کام بہتر توسیع ہے، کیونکہ ویب سائٹ کے نام کا تصور کرنے پر سب سے پہلے ڈاٹ کام ہی ذہن میں آتا ہے۔
-ڈاٹ کام ہی دنیا کا سب سے مشہور ڈومین نیم ایکس ٹنشن بھی ہے اور ڈومین نیم رسیل مارکیٹ میں انہی ناموں کو سب سے زیادہ اہم بھی سمجھا جاتا ہے۔
- جہاں تک ممکن ہو، کاروباری لوگوں کو بھی اسی تجاوزات والا ڈومین نیم لینا چاہئے۔
- تعلیمی اداروں کو. edu یا. org، غیر سرکاری  اداروں کو. org تجاوزات کو ترجیح دینی چاہئے۔
- ہندوستانی کمپنیوں کے درمیان. in توسیع. com کے بعد دوسری سب سے بڑی پسند ہے۔
- ٹی وی چینلوں میں. tv توسیع مشہور ہے، جودر اصل ایک چھوٹے سے ملک توالو کا کنٹری لیول ڈومین نیم ہے۔
- ڈومین ایکسٹنشن کے ساتھ دلچسپ کمبی نیشن بنانے کا بھی رواج ہے، مثلا: come.in، del.icio.us ایسے توسیع watch.tv. نہ ہوتے ہوئے بھی پسند کئے جاتے ہیں کیونکہ ایک تویہ دلچسپ ہیں جبکہ دوسرے ویب سائٹ کے کام کاج کی طرف بھی درست اشارہ کرتے ہیں۔
آئی پی اڈریس اور ڈومین نیم میں فرق
کیا ڈومین نیم کے بغیر کسی ویب سائٹ پر پہنچ پانا ممکن نہیں ہے؟
- نہیں، ایساممکن نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ہر ویب سائٹ یا خدمت کا ایک خاص ایڈریس ہونا ضروری ہے لیکن بنیادی طور پر یہ ایڈریس چار پوائنٹ کے جوڑوں کی شکل میں ہوتا ہے، جسے آئی پی ایڈریس کہا جاتا ہے۔
- مثال کے طور پر 72.30.38.140 یاہو کے ویب پورٹل کا آئی پی اڈریس ہے۔ آپ چاہیں تو اپنے براوزر میںhttp://72.30.38.140 ڈال کر دیکھ سکتے ہیں، یاہو کی ویب سائٹ کھل جائے گی۔
- لیکن اس طرح کے ایڈریس کو یاد رکھنا عام انسان کے بس کا روگ نہیں۔ آخر کوئی کتنے ایڈریس یاد رکھ سکتا ہے، حد سے حد چار یا پانچ! یہیں ضرورت پڑتی ہے ڈومین نیم کی۔
- ڈومین نیم سسٹم کے ذریعے ایسے ہر اڈریس کے ساتھ ایک ایسا نام کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جسے